بدھ 4 فروری 2026 - 14:13
احکام شرعی | امام زمانؑہ کے ظہور کے لیے روزے کی نذر

حوزہ/ رہبرِ معظم انقلاب نے «امام زمانؑ کے ظہور کے لیے روزے کی نذر» کے بارے میں ایک استفتاء کا جواب دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ معظم انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ‌ای نے «امام زمانؑ کے ظہور کے لیے روزے کی نذر» سے متعلق ایک استفتاء کا جواب دیا ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

امام زمانؑ کے ظہور کے لیے روزے کی نذر

سوال: اگر امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور کے لیے تین دن کے روزے نذر کیے جائیں، تو کیا یہ نذر صحیح ہے یا نذر کا کسی حاجت کے پورا ہونے سے مشروط ہونا ضروری ہے؟

جواب: اگر نذر مخصوص شرعی صیغے کے ساتھ ادا کی جائے تو اس پر عمل کرنا واجب ہے، اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں کفارہ لازم آتا ہے، چاہے نذر کسی شرط یا حاجت کے پورا ہونے سے مشروط ہو یا بغیر کسی شرط کے ہو۔

نذر کا شرعی صیغہ یہ ہے:«لِلّٰہِ عَلَیَّ أَنْ أَفْعَلَ کَذَا…» :«اللہ کے لیے میرے ذمے ہے کہ میں فلاں کام انجام دوں۔»

اسی طرح اگر کوئی شخص یہ کہے: «میں خدا کے لیے نذر کرتا ہوں کہ فلاں کام انجام دوں»، تو بنابرِ احتیاطِ واجب اس نذر پر عمل کرنا ضروری ہے۔

لیکن صرف یہ کہنا کہ:«میں نذر کرتا ہوں»، شرعی نذر کے تحقق کے لیے کافی نہیں

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha